سلطان عبد العزیز بن سعود ،کا بادشاہ ھونے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے وھابی علماء میں بھی شمار ھوتا تھا، چنانچہ مکہ معظمہ میں اس نے ذی الحجہ ۱۳۶۲ھجری میں لوگوں کے سامنے ایک مفصل تقریر کی جس میں کھا کہ حضرت رسول اسلام (ص) نے ارشاد فرمایا کہ بھت جلد ھی میری امت کے ۷۳ فرقے ھوجائیں گے اور ایک فرقے کے علاوہ سب جھنمی ھونگے، تو اس پر اصحاب نے سوال کیا وہ فرقہ کونسا ھے؟ تو اس وقت آنحضرت (ص) نے جواب میں فرمایا: وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے راستہ پر چلیں گے“ اس کے بعد ابن سعود کھتے ھیں کہ خداوندعالم نے اپنے دین کی خلفائے اربعہ اور دوسرے سلف صالح کے ذریعہ سے تائید کی ھے۔ (۱)
وھابی حضرات ، خلیفہ اربعہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ھیں کہ یہ حضرات سلف صالح کے منتخب افراد ھیں، اور ان کی فضیلت بھی خلافت کی ترتیب کے لحاظ سے ہیں (یعنی سب سے افضل ابوبکر ان کے بعد عمر…) اور خلفاء اربعہ کے بعد ”عشرہ مبشرہ"(۲) کے باقی لوگ افضل ھیں،اور ان کے بعد اھل بدر (جنگ بدر میں شرکت کرنے والے حضرات) اور ان کے بعد ”اھل بیعت شجرہ" (۳)افضل ھیں۔
تعجب کی بات تو یہ ھے کہ وھابی حضرات جس طرح کے فضائل اور مناقب حضرت علی(ع)کے بارے میں بیان کرتے ھیں کسی ایک صحابی یا خلیفہ کے بارے میں بیان نھیں کرتے۔ (۴)
محمد بن عبد الوھاب نے ، اپنی کتاب توحید میں کسی صحابی یا خلیفہ کے لئے اس چیز کے علاوہ اور منقبت بیان نھیں کی جس کو پیغمبر اکرم (ص) نے جنگ خیبر میں حضرت علی(ع)کے لئے فرمایا تھا کہ:
”کل میں علم اس کو دونگا جو خدا ورسول کو دوست رکھتا ھوگا اور خدا ورسول بھی اس کو دوست رکھتے ھونگے، اور خداوندعالم نے فتح خیبر کو بھی اس سے مخصوص قرار دیا ھے“۔ (۵)
اس حدیث کو ابن تیمیہ نے بھی ذکر کیا ھے ، اور موصوف یہ بھی کھتے ہیں کہ یہ حدیث پیغمبر (ص) حضرت علی کے ظاھری اور باطنی ایمان پر شھادت دیتی ھے اور اسی طرح خدا ورسول سے آپ کی دوستی ثابت ھوتی ھے اور مومنین پر حضرت علی کی دوستی واجب ھے۔ (۶)
اھل بیت پیغمبر (ع)کے بارے میں
ابن تیمیہ اپنے فتووں میں کھتا ھے کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی چادر علی، فاطمہ حسن، اور حسین علیھم السلام پر اڑھائی اور فرمایا:
”اَللّٰھمَّ ھٰوٴُلاٰءِ اَھلُ بَیْتِی فَاْذْھبِ الرِّجْسَ عَنْھمْ وَطَھرْھمْ تَطْھیْراً “(۷)
(اے خدا یہ میرے اھل بیت ھیں ان سے تمام برائیوں کو دور کرکے پاک وپاکیزہ قرار دے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ھے)
ابن تیمیہ ایک دوسری جگہ کھتا ھے: کہ ھم ان لوگوں میں سے ھیں جو اھل بیت پیغمبر (ع)کو دوست رکھتے ھیں اور روز غدیر خم آنحضرت (ص) کی وصیت کا پاس رکھتے ھیں کہ آپ نے فرمایاتھا:
”میں تم کو اپنے اھل بیت کی یاد دلاتا ھوں“ اور اس جملہ کی کئی مرتبہ تکرار بھی فرمائی تھی۔ (۸) اسی طرح ابن تیمیہ کھتا ھے کہ اھل بیت پیغمبر (ص) کے بھت سے حقوق ھیں جن کی رعایت کرنا واجب ھے ، ان حقوق میں سے ایک حق یہ ھے کہ ان حضرات کو خمس اور غنیمت دیا جائے اور ان میں سے ایک حق یہ ھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد ان پر صلوٰت بھیجی جائے ،اور اسی طرح آل محمد وہ ھیں جن پر صدقہ حرام ھے۔ (۹)
لیکن اھل بیت (ع)کے بارے میں آلوسی صاحب کھتے ھیں کہ ھمارا عقیدہ وھی ھے جو قرآن اور حدیث میں آیا ھے اور ھم ان فضائل اھل بیت (ع)کو مانتے ھیں جو ان کی شان میں نازل ھوئے ھیں، لیکن پیغمبر اکرم (ص) اور ان کے اھل بیت (ع)کی شان میں مبالغہ کرنے والوں کی مخالفت کرتے ھیں، آل پیغمبر سے محبت اور دوستی ایمان کو معین کرنے والی ھے اور یھی حضرات خدا کے نور ھیں اور ان پر صلوٰت بھیجنا نماز کے صحیح ھونے کی شرط ھے۔
اس کے بعد جناب آلوسی صاحب کھتے ھیں کہ نجد کے علماء اور حکام نے ھمیشہ یہ کوشش کی ھے کہ عوام الناس کو اس بات سے روکا ھے جو کچھ آل پیغمبر اور اصحاب کے بارے واقعات پیش آئیں ان کے بارے میں بحث وگفتگو نہ کریں تاکہ حق وحقیقت سے دوری کا سبب نہ بنیں ، در حالیکہ وھابی حضرات اھل بیت(ع)کی دوستی اور ان کی محبت میں غلو نہیں کرتے۔ (۱۰)
شیخ عبد العزیز ، جو مدرسۂ پیشوای دعوت وھابی(یعنی محمد بن عبد الوھاب) ریاض کے مدرس تھے، وہ کھتے ھیں: کہ اھل بیت پیغمبر وہ حضرات ھیں جن پر صدقہ حرام ھے اور ان میں سب افضل علی ، فاطمہ، حسن اور حسین (ع)ھیں . اوراس کے بعد احمد بن حنبل کی روایت نقل کرتے ھیں جس کا خلاصہ یہ ھے کہ ” پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی چاد ر اپنے اھل بیت :علی فاطمہ ، حسن اور حسین علیھم السلام پر اڑھائی اور اس آیت کی تلاوت کی :
"اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہ لِیُذْھبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھلَ الْبَیْتِ وَیُطَھرَکُمْ تَطْھیْراً.'(۱۱)
”بس اللہ کا ارادہ یہ ھے اے اھل بیت کہ تم سے ھر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ھے۔ “
اور اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
”اَللّٰھمَّ ھٰوٴُلاٰءِ اَھلُ بَیْتِی وَاَھلُ بَیْتِیْ اَحَقُّ“
(خدا وندا ! یہ میر اھل بیت ھیں اور میرے اھل بیت دوسر وں سے احق اور شائستہ تر ھیں۔)
لھٰذا، اھل بیت سے دوستی اور ان سے محبت کرنا ھم پر واجب ھے، یہ حضرات ھی پیغمبر اکرم (ص) کے اقرباء اور رشتہ دار ھیں، اس کے علاوہ اسلام میں سابقہ بھی زیادہ رکھتے ھیں، اور دین کو پھیلانے میں بھت سے مصائب کو برداشت کیا ، وغیرہ وغیرہ ، لھٰذا ان سے دوستی اور محبت کرنا، پیغمبر اکرم (ص) کا احترام اور قرآن وسنت کے احکامات کی پیروی کرنا ھے ، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:
" قُلْ لاٰ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہ اَجْراً اِلاّٰ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی." (۱۲)
”(اے میرے رسول) آپ کھہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نھیں چاھتا علاوہ اس کہ میرے اقرباء سے محبت کرو۔“
حوالہ جات:
۱۔ مکہ معظمہ سے نشر ھونے والا”ام القریٰ“ نامی اخبار ، شمارہ نمبر ۹۸۹.
۲۔ اھل سنت کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم ﷺ نے مھاجرین اور قریش کے دس افراد کو بھشت کی بشارت دی ، جن میں سے چاروں خلیفہ، اورباقی افراد اس طرح ہیں: طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف ،سعد بن ابی وقّاص ، ابو عبیدہ جرّاح اور سعید بن زید۔
۳۔ بیعت شجرہ جس کو بیعت رضوان بھی کھا جاتا ھے اس سے مراد یہ ھے کہ ھجرت کے چھٹے سال پیغمبر اکرم ﷺ اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف عمرہ کے لئے جارھے تھے اور جس وقت مکہ کے نزدیک ”حُدیبیہ" پھونچے تو مشرکین مکہ نے اجازت نھیں دی، اس موقع پر آپ کے اصحاب جن کی تعداد تقریباً ایک ھزار تھی حضرت کے ھاتھوں پر بیعت کی کہ اگر مشرکین سے جنگ لڑنی پڑی تو اس سے منہ نھیں پھیریں گے اور ڈٹ کر جنگ کریں گے.
۴۔ ھذی ھی الوھابیة، ص ۱۰۰.
۵۔ کتاب التوحید محمد بن عبد الوھاب (رسا لہ دھم) ،ص ۱۳۱.
۶۔ الفتاوی الکبری ،جلد اول ،ص ۳۷۰.
۷۔ فتح المجید،ص ۵۹.
۸۔ الفتاوی الکبریٰ ،جلد اول، ص ۲۶۲.
۹۔ عقائد ولواسطیہ ابن تیمیہ (رسالہ نھم از مجموعة الرسائل، جلد اول ،ص ۴۰۸.
۱۰۔ رسالہ الوصیة الکبریٰ (رسالہ ۷ مجموعة الرسائل الکبریٰ ،جلد اول، ص ۳۰۳).
۱۱۔ تاریخ نجد،ص ۴۷.
۱۲۔ سورہ احزاب، آیت ۳۳.
سَلف صالح کے بارے میں وھابیوں کا عقیدہ
- توضیحات
- نوشته شده توسط admin
- دسته: وھابی عقائد
- بازدید: 1906
شبهات اور جوابات
مقالات
وزیٹر کاؤنٹر
Who Is Online
7
Online